26 فروری 2013 - 20:30

برطانيہ اور امريکا کے وزرائے خارجہ ويليم ہيگ اور جان کيري نے لندن ميں ايک مشترکہ پريس کانفرنس ميں شام ميں سرگرم مسلح دہشتگرد گروہوں کي حمايت اور مدد جاري رکھنے کا اعلان کيا ہے -

ابنا: شام ميں بحران کے آغاز اور پھر اس ملک ميں بدامني ميں شدت آنے کے بعد سے ہي مغربي ملکوں خاص  طور پر امريکا، برطانيہ اور ان کے بعض عرب اتحاديوں  نے شامي حکومت کي سرنگوني کو اپنے منصوبے ميں شامل کرليا اور اس کام کے لئے انہوں نے اب تک بے پناہ کوششيں اور اقدامات انجام ديئے ہيں  -
ان ملکوں نے شامي حکومت کو گرانے کے لئے دہشت گردوں کي ہر طرح سے اسلحہ جاتي مالي اور انٹليجنس غرضيکہ ہر شعبے ميں مدد کي اور اب بھي ان کي مدد جاري ہے -
امريکا برطانيہ اور ان کے بعض عرب اتحاديوں کي کوشش ہے کہ جيسے بھي ہو شام ميں صدر بشار اسد کي حکومت کا تختہ الٹ ديا  جائے- اس درميان امريکا اور لندن نے اس کام ميں سب سے زيادہ بڑھ چڑھ کر حصہ ليا ہے اور دہشت گردوں کي سب سے زيادہ مدد انہي ملکوں نےکي -
    برطانوي وزير خارجہ ويليم ہيگ نے لندن ميں اپنے نئے امريکي ہم منصب جان کيري کے ساتھ   مشترکہ پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ ہميں چاہئے کہ شام ميں مسلح محالفين کي اور زيادہ مدد کريں -
امريکي وزير خارجہ نے بھي برطانوي وزير خارجہ کي بات کي تائيد کي - امريکا اور اس کے مغربي اتحادي،  ترکي ، قطر اور سعودي عرب جيسے ملکوں کے ساتھ مل کر يہ دعوي کررہے ہيں کہ وہ شام کے بحران کو ختم کرنا چاہتے ہيں ليکن ساتھ ہي وہ مسلح گروہوں کو اسلحے بھي فراہم کررہے ہيں -
   اس درميان شام کے مخالف گروہوں کے  اتحاد نے اعلان کيا ہے کہ وہ جمعرات کو روم ميں ہونےوالے فرينڈز آف سيريا نامي اجلاس ميں شرکت کرے گا -
شام کے مخالف گروہوں کے اتحاد کے سربراہ معاذ الخطيب نے پہلے اعلان کيا تھا کہ وہ اس اجلاس کا  بائيکاٹ کريں گے ليکن   برطانوي وزير خارجہ کي جانب سے مدد جاري رکھنے اور  بڑھانے کے  اعلان  کے بعد انہوں نے  اپنا موقف تبديل کرديا اور فيس بک پر اعلان کيا ہے کہ وہ روم اجلاس ميں شرکت کريں گے -
    دوسري طرف شامي وزير خارجہ وليد المعلم نے اپنے دورہ روس ميں اعلان کيا ہے کہ ان کي حکومت شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے مسلح مخالف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تيار ہے - شامي وزير خارجہ نے  اپنے روسي ہم منصب سرگئي لاوروف کے ساتھ ملاقات ميں کہا ہے کہ  ہم ان سبھي گروہوں کے ساتھ جو مذاکرات کرنے ميں دلچسپي رکھتے ہيں بات چيت کے لئے تيار ہيں-
شامي وزير خارجہ کا کہنا تھا کہ ملک ميں اصلاحات خون کي ہولي کھيل کر نہيں لائي جاسکتيں  بلکہ يہ عمل بات چيت کے ذريعے ہي ممکن ہوسکے گا - انہوں نے کہا کہ ہم شام کے بحران کے پرامن حل پر يقين رکھتے ہيں اور اسي لئے حکومت نے ايک کميشن بھي تشکيل ديا ہے تاکہ وہ مخالف گروہوں کےساتھ بات چيت کے عمل کو يقيني بنائے -
    روسي وزير خارجہ نے بھي شام ميں قتل و غارت گري   جاري رہنے کے خطرناک نتائج کي بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  شام کے بحران کے  سياسي حل کے سوا اور کوئي دوسرا حل نہيں ہے ليکن ايسا لگتا ہے کہ شام کے بحران کے سلسلے ميں مغرب اور خاص طور پر امريکا اور برطانيہ کا رويہ گذشتہ برس ہونےوالے جنيوا اجلاس اور اس ميں طے پانےوالے سمجھوتے کے برخلاف ہے جس ميں شام کے بحران کو سياسي طريقے سے حل کرنے کي ضرورت پر زورديا گيا تھا -
جنيوا ميں ہونےوالے سمجھوتے کي روس اور چين کے ساتھ امريکا اور برطانيہ نے بھي حمايت کا اعلان کيا تھا - درحقيقت امريکا اور برطانيہ شام کے بحران کو طاقت اور جنگ کے ذريعے حل کرنا چاہتے ہيں اور اسي لئے وہ دہشتگردوں کو مسلسل ہتھيار فراہم کررہے ہيں-

.......

/169